Google

Monday, April 27, 2020

پتا نہیں کورونا دو،چار، چھ ماہ کب تک چلے، وزیراعظم عمران خان



پتا نہیں کورونا دو،چار، چھ ماہ کب تک چلے، یہ نہیں کہہ سکتا کہ لاک ڈاؤن سے کورونا ختم ہوجائے گا، آگے مزید مشکل وقت آرہا ہے، قوم کو ساتھ دینا ہوگا، سب کو احتیاط کرنی چاہیے، یہ وائرس ایسی ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے۔کورونا ریلیف فنڈ کیلئے ٹیلی تھون پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔(23 اپریل 2020)  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں اب کورونا کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا، پتا نہیں کورونا دو، چار ماہ کب ختم ہوتا ہے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ لاک ڈاؤن کرنے سے کورونا ختم ہوجائے گا،آگے مزیدمشکل وقت آرہا ہے، قوم کوساتھ دینا ہوگا، قوم کو کہتا ہوں کہ مجھ سمیت سب کواحتیاط کرنی چاہیے،یہ وائرس ایسی ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے۔
انہوں نے نجی ٹی وی چینلز پر براہ راست احساس ٹیلی تھون پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ایسی کبھی صورتحال نہیں آئی جس کا دنیا کو آج سامنا ہے،لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی جمع پونجی خرچ ہو رہی ہے۔حکومت نے سب سے بڑا پیکج دیا ہے، ڈاکٹر ثانیہ نے احساس پروگرام بنایا، وہ بڑا شفاف اور ڈیٹا بیس پروگرام ہے، ایک حکومت کررہی ہے، لیکن آئندہ جو وقت آرہا ہے، اس میں پوری قوم کو شرکت کرنا پڑے گی۔
میں کوشش کررہا ہوں کہ احتیاط کروں کم ہے، احتیاط سب کو کرنی چاہیے، ہمیں خوش فہمی ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں ابھی امریکا یا یورپ کی طرح کے حالات کیوں نہیں ہوئے؟ میں قوم کو کہتا ہوں کہ احتیاط کریں، ایسی وائرس کبھی نہیں آئی جس تیزی سے یہ پھیلتی ہے، اس لیے ہم کوشش کررہے ہیں کہ سماجی فاصلہ اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر کبھی رحم نہیں آیا، کیونکہ جب رحمہوجائے تو پھر جیتتے نہیں، میں نے 1970ء میں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی، لیکن مارکیٹ کریش کرگئی۔
یہ بہت بڑی نعمت ہے جب لوگوں کو سمجھ آجائے۔ جب انسان اللہ کی راہ میں دیتا ہے تو کبھی بھی انسان خسارے میں نہیں رہتا، اللہ کسی نہ کسی ذرائع سے انسان کو ضرور دیتا ہے۔امیری کا انسان کے بینک بیلنس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بلکہ امیری انسان کے اندر ہوتی ہے جو خوشی کی صورت میں ملتی ہے جب انسان اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پتا نہیں کورونا دوچار یا چھ ماہ کب تک رہتا ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ لاک ڈاؤن کرنے سے کورونا ختم ہوجائے گا، ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اب ہمیں کورونا کے ساتھ رہنا پڑے گا۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں، ہم لاک ڈاؤن کرکے اتنے زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچ سکتے، یہ جو پیسا اکٹھا کررہے ہیں اس پیسے سے مستحق لوگوں کی امداد جاری رکھیں گے، اسمارٹ لاک ڈاؤن سے ہمیں پتا چلے گا، جہاں وائرس پھیلے گا اس کو لاک ڈاؤن کردیں گے۔ امریکی صدرٹرمپ سے کل رات بات ہوئی ، وہاں بھی معیشت متاثر ہے، 40 ہزار لوگ مرگئے ہیں، ہم ملک بند کرکے کبھی بھی پورے ملک کی مدد نہیں کرسکتے۔

Sunday, April 26, 2020

سعودی عرب: کرفیو کو جزوی طور پر اٹھانے کا حکم

شاہ سلمان نے ماسوائے مکہ اور اس کے نواحی علاقوں کے باقی تمام علاقوں سے کرفیو کو جزوی طور پر اٹھانے کا حکم دیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے احکامات کے تحت اتوار سے 13 مئی تک جزوی کرفیو رہے گا۔
بتایا گیا ہے کہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کرفیو کو جزوی طور پر اٹھایا جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ مکہ اور گذشتہ حکمنامے میں بیان کردہ اس کے نواحی علاقوں میں24 گھنٹوں کا کرفیو بدستوربرقرار رہے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ 29 اپریل سے 13 مئی تک کچھ کمرشل اور معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی اجازت ہو گی۔
لیکن جن سرگرمیوں میں سماجی دوری ممکن نہیں ان پر پابندی لاگو رہے گی مثلاً کھیل، ییوٹی پارلر، حجام کی دکانیں، کیفے، سینما اور دیگر تفریحی مراکز۔
کنسٹرکشن کمپنیز اور فیکٹریوں میں کام جاری رکھا جا سکے گا۔
پانج لوگوں سے زیادہ کے اجتماع کی اجازت نہیں نہ کسی شادی کی تقریب میں نہ ہی تدفین کے موقع پر۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بھی ان پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا اسے جرمانہ ہو گا اور اس کے کاروبار کو بند کر دیا جائے گا۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جزوی کرفیو ہٹانے کے دوران اس عرصے میں صورتحال کا مسلسل جائزہ بھی لیا جائے گا۔
حکم نامے میں وزارتِ داخلہ سے کہا گیا ہے کہ وہ دیگر ذمہ داران کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ اگر کرفیو کے حوالے سے محکمہ صحت کی ضرورت کے مطابق لائحہ عمل میں کوئی تبدیلی درکار ہو تو اس پر عمل کیا جائے۔

Saturday, April 25, 2020

امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس چین سے نہیں آیا۔ گورنر نیویارک

ریاست امریکی نیویارک میں کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ یورپ سے داخل ہوا،

 صدر ٹرمپ نے سفرپابندی لگانے میں دیر کی جو وائرس پھیلنے کی وجہ بنی۔ اینڈریو کومو


امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس چین سے نہیں آیا بلکہ یورپ سے داخل ہوا
صدر ٹرمپ نے سفری پابندیاں لگانے کے فیصلے میں دیر کی جو وائرس پھیلنے کی وجہ بنی۔
تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے تسلیم کیا ہے کہ ریاست نیویارک میں کورونا وائرس چین سے نہیں آیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق جمعے کے روز پریس بریفنگ کے دوران اینڈریو کومو نے بتایا کہ ایک ریسرچ کے مطابق ان کی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس یورپ کے راستے سے داخل ہوا۔ گورنر نیویارک کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے سفری پابندیوں کے فیصلے میں کی جانے والی تاخیر اس مہلک وائرس کے پھیلنے کا سبب بنی۔
گورنر نیویارک کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے چین سے سفری پابندی کا اعلان 2 فروری سے کیا جو کہ کورونا کی وباء پھوٹنے کے بہت بعد کی تاریخ ہے۔
گورنر اینڈریو کومو کے مطابق نیوز رپورٹرز اس سے ایک ماہ قبل ہی چین کے شہر ووہان میں کورونا پھیلنے کی رپورٹس منظر عام پر لا چکے تھے۔ گورنر نیویارک کے مطابق یورپ سے بھی سفری پابندی میں تاخیر کی گئی جس کی وجہ سے وباء کے دوران یورپ سے تقریباََ 2۔2 ملین لوگوں نے نیویارک اور نیو جرسی کے ایئر پورٹس کا رخ کیا جن میں سے کورونا سے شدید متاثر لوگ بھی شامل تھے۔
گورنر اینڈریو کومو نے بتایا کہ چین میں کورونا کی وباء پھوٹنے کے 2 ماہ بعد ہم نے اقدامات کرنا شروع کیے، انہوں نے کہا کہ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کورونا ابھی بھی چین میں ہے اور ہمارے اقدامات اٹھانے کا انتظار کر رہا ہے؟ گورنر اینڈریو کومو نے بتایا کہ ہمارے اقدامات کرنے سے قبل ہی وائرس چین کو چھوڑ کر دوسرے ممالک تک جا پھیلا تھا اور ہم نے امریکہ کے دروازے صرف چین کے لیے بند کیے، وائرس سے متاثرہ باقی ممالک کے لیے نہیں۔

پاکستان میں کرونا کے موجودہ کیسز۔

ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 785 نئے متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ وائرس کے باعث مزید 16 اموات ہوئی ہیں۔
جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 11940 ہو گئی ہے جبکہ کل 253  اموات ہوئی ہیں۔
ملک میں 2760 مریض کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
صوبہ پنجاب 5046 کووڈ متاثرین کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ہے جبکہ سندھ میں متاثرین کی تعداد 3945 ہے۔
خیبرپختونخوا میں 1708، بلوچستان میں 656  افراد میں کووڈ 19 کی تصدیق کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 223، گلگت بلتستان میں 307 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 55 ہے۔

Friday, April 24, 2020

حالات خراب ہونے کے خدشے پر حکومت پالیسی بدل سکتی ہے، مراد علی شاہ



سید مراد علی شاہ  نے صدر پاکستان کے مساجد کی حوالے سے فیصلے پر بات کرتے ہوئے  کہا کہ جمعرات کو انھوں نے اس بارے میں صدر مملکت سے ٹیلیفون پر بات کی ہے۔
جس پر صدر پاکستان نے کہا کہ ’اگر کسی وقت وفاق یا صوبائی حکومت کو یہ محسوس ہو کہ کورونا وائرس کی وجہ سے حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں یا مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے تو حکومت اس پالیسی کو تبدیل کرسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلے ہم نے ڈاکٹروں اور ماہرین کی مشاورت سے کیے ہیں، ماہرین کے مطابق اگلے 15 دن بہت اہم ہیں لہذا ان دنوں میں لاک ڈاؤن کو سخت کریں گے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مشکل فیصلے کرنا حکومت ذمہ داری ہے۔
اسی طرح صوبے میں شاپنگ سنٹرز کی جانب سے ضابطہ کار کی خلاف ورزی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایسے شاپنگ مالز جو ایس او پیز کی خلاف ورزی کررہے تھے ہم نے ان کو فوری بند کرنے کا حکم دیاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں چھوٹے تاجر تعاون کر رہے ہیں اوراشیا کی ہوم ڈلیوری کر رہے ہیں۔
ڈاکٹروں کی پریس کانفرنس پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بدھ کے روز ڈاکٹروں نے اہم پریس کانفرنس کی اور اپنے خدشات کے حوالے سے آگاہ کیا، آج پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب نے بھی انھیں خدشات کا اظہار کیا ہے۔


کورونا: ’سندھ کی مساجد میں نماز جمعہ، تراویح کے اجتماعات نہیں ہوں گ.


مساجد میں نماز جمعہ اور تراویح کے اجتماعات نہیں ہوں گے، وزیر اعلی سندھ
وزیراعلیٰ سندھ  نے کہا ہے کہ صوبے میں آج نماز جمعہ اور تراویح کے اجتماعات نہیں ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے رات گئے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہ ’میں رات گئے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں، صوبے میں کورونا کے بڑھتے متاثرین کے سبب مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’آج دوپہر 12 سے تین بجے تک مکمل لاک ڈاؤن ہو گا اور مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی ہو گی۔ جبکہ رمضان کے سلسلے میں نماز تراویح بھی عوام گھروں میں پڑھیں۔
انھوں نے علما سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’میری علما کرام سے درخواست ہے کہ حکومت سے تعاون کریں، اگر یہ فیصلے غلط ہیں تو اللہ ہماری نیت دیکھ کر معاف کردے گا۔
سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا اگر بڑے اجتماعات سے گریز نہ کیا گیا تو یہ وبا بڑی تیزی سے پھیلے گی۔


Wednesday, April 22, 2020

SPAIN LOCK DOWN

آج اسپین کی پارلیمان میں لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ متوقع ہے کہ کیا اسے مزید دو ہفتوں کے لیے توسیع دی جائے گی یا نہیں۔

ملک میں مارچ کے وسط میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔

دنیا بھر میں اسپین میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد امریکہ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

یہاں اب تک 21 ہزار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

دن بہ دن یہاں اموات کی شرح میں کمی آ رہی ہے اور اس لیے اب یہ بحث زور پکڑنے لگی ہے کہ کب اور کیسے ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کی سخت پابندیوں کو اٹھایا جائے۔

گذشتہ ہفتے کچھ صنعتوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس اتوار کو چھ ہفتوں میں یہ پہلی بار تھی کہ بچوں کو چھ ہفتوں کے بعد ملک سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی۔

ادھر چند یورپی ممالک جن میں آسٹریا، ڈنمارک اور جرمنی بھی شامل ہیں پہلے سے ہی لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو نرم کرنا شروع کر چکی ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ معاون خصوصی برائے اطلاعات تعینات، سینیٹر شبلی فراز نئے وزیر اطلاعات

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مشیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کو ان کے عہدے سے ہٹا کر فوج کے سابق ترجمان لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم ...